Surah Kahf With Urdu Translation – Surah al Kahf Pdf

The 18th chapter of the Quran is titled Surah Al-Kahf, sometimes referred to as “The Cave.” It is a strong and important chapter that offers believers many blessings and lessons. Follow the blog to Read Surah Kahf With Urdu Translation. Four engrossing tales that serve as guidance, wisdom, and moral lessons for humanity make up Surah Kahf.

  • The first tale concerns a group of teenage believers who sought safety in a cave and were shielded from harm by Allah. It instills the value of faith, confidence in Allah, and the benefits of perseverance in the face of difficulty.
  • The second tale is about the Prophet Musa (Moses) and his meeting with Khidr, a knowledgeable aide of Allah. It emphasizes the value of learning new things, humility, and accepting divine wisdom even when it goes against our natural intuition.
  • The third tale centers on Dhul-Qarnayn, a good and upright king who traveled the globe and encountered various people and circumstances. It emphasizes the value of fairness, exercising authority for the good of others, and appreciating human limitations.
  • The fourth tale, concerning the rich and the poor, emphasizes the transient nature of material wealth and the actual worth of faith and good acts in Allah’s eyes.
  • The meaning of the Hereafter, the nature of this world, and the concept of time are all profoundly explained in Surah Kahf. It inspires adherents to pursue knowledge, consider the evidence of Allah in nature, and work toward justice in all spheres of life.

Surah Kahf teachings offer direction, moral guidance, and spiritual sustenance for believers, motivating them to live a righteous and balanced life by Islam’s teachings.

Surah Kahf With Urdu Translation

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمہ: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
1
ترجمہ: تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں رکھی۔
2
ترجمہ: لوگوں کی مصلحتوں کو قائم رکھنے والی نہایت معتدل کتاب تاکہ اللہ کی طرف سے سخت عذاب سےڈرائے اوراچھے اعمال کرنے والے مومنوں کو خوشخبری دے کہ ان کے لیے اچھا ثواب ہے۔
3
ترجمہ: جس میں ہمیشہ رہیں گے۔
4
ترجمہ: اور ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنا کوئی بچہ بنایا ہے۔
5
ترجمہ: اس بارے میں نہ تووہ کچھ علم رکھتے ہیں اورنہ ان کے باپ دادا۔کتنا بڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکلتا ہے۔ وہ بالکل جھوٹ کہہ رہے ہیں ۔
6
ترجمہ: اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو ہوسکتا ہے کہ تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کو ختم کردو۔
7
ترجمہ: بیشک ہم نے زمین پر موجود چیزوں کوزمین کیلئے زینت بنایا تاکہ ہم انہیں آزمائیں کہ ان میں عمل کے اعتبار سے کون اچھا ہے۔
8
ترجمہ: اور بیشک جو کچھ زمین پر ہے ہم اسے خشک میدان بنا دیں گے۔
9
ترجمہ: کیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ ی غار اور جنگل کے کنارے والے وہ ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی تھے۔
10
ترجمہ: جب ان نوجوانوں نے ایک غار میں پناہ لی، پھرکہنے لگے: اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے معاملے میں ہدایت کے اسباب مہیا فرما۔
11
ترجمہ: تو ہم نے اس غار میں ان کے کانوں پر گنتی کے کئی سال پردہ لگا رکھا ۔
12
ترجمہ: ھر ہم نے انہیں جگایا تاکہ دیکھیں کہ دو گروہوں میں سے کون ان کے ٹھہرنے کی مدت زیادہ درست بتاتا ہے۔
13
ترجمہ: ہم آپ کے سامنے ان کا ٹھیک ٹھیک حال بیان کرتے ہیں ۔ بیشک وہ کچھ جوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا۔
14
ترجمہ: اور ہم نے ان کے دلوں کو قوت عطا فرمائی جب وہ کھڑے ہوگئے تو کہنے لگے: ہمارا رب وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ،ہم اس کے سوا کسی معبود کی عبادت ہرگز نہیں کریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو اس وقت ہم ضرور حد سے بڑھی ہوئی بات کہنے والے ہوں گے۔
15
ترجمہ: یہ ہماری قوم ہے انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں ، یہ ان پر کوئی روشن دلیل کیوں نہیں لاتے؟ تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟
16
ترجمہ: اور (آپس میں کہا:) جب تم ان لوگوں سے اور اللہ کے سوا جن کو یہ پوجتے ہیں ان سے جدا ہوجاؤ تو غار میں پناہ لو، تمہارا رب تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے کام میں تمہارے لئے آسانی مہیا کردے گا۔
17
ترجمہ: اور اے حبیب! تم سورج کو دیکھو گے کہ جب نکلتا ہے تو ان کے غار کے دائیں جانب مائل ہوکر نکل جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بائیں طرف کتراکر گزر جاتا ہے حالانکہ وہ اس غار کے کھلے حصے میں ہیں ۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے ۔ جسے اللہ ہدایت دیتا ہے تو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہ کرے تو تم ہرگز اس کیلئے کوئی راہ دکھانے والا مددگار نہ پاؤ گے۔
18
ترجمہ: اور تم انہیں جاگتے ہوئے خیال کرو گے حالانکہ وہ سو رہے ہیں اور ہم ان کی دائیں اور بائیں کروٹ بدلتے رہتے ہیں اور ان کا کتا غار کی چوکھٹ پراپنی کلائیاں پھیلائے ہوئے ہے ۔ اے سننے والے ! اگر تو انہیں جھانک کر دیکھ لے تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے اور ان کی ہیبت سے بھر جائے۔
19
ترجمہ: اور ویسا ہی ہم نے انہیں جگایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے حالات پوچھیں ۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا: تم یہاں کتنی دیر رہے ہو؟ چند افراد نے کہا: کہ ہم ایک دن رہے ہیں یا ایک دن سے کچھ کم وقت۔ دوسروں نے کہا: تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنا تم ٹھہرے ہوتو اپنے میں سے ایک کو یہ چاندی دے کرشہر کی طرف بھیجو تاکہ وہ دیکھے کہ وہاں کون سا کھانا زیادہ عمدہ ہے پھر تمہارے پاس اسی میں سے کوئی کھانا لے آئے اور اسے چاہیے کہ نرمی سے کام لے اور ہرگز کسی کو تمہاری اطلاع نہ دے۔
20
ترجمہ: بیشک اگر انہوں نے تمہیں جان لیا تو تمہیں پتھر ماریں گے یا تمہیں اپنے دین میں پھیر لیں گے اور اگر ایسا ہوا تو پھر تم کبھی بھی فلاح نہ پاؤگے۔
21
ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے ان پر مطلع کردیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت میں کچھ شبہ نہیں ، جب وہ لوگ ان کے معاملے میں باہم جھگڑنے لگے تو کہنے لگے : ان کے غار پر کوئی عمارت بنادو ، ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے، جو لوگ اپنے اس کام میں غالب رہے تھے انہوں نے کہا: ہم ضرور ان کے قریب ایک مسجد بنائیں گے۔
22
ترجمہ: اب لوگ کہیں گے کہ وہ تین ہیں (جبکہ) چوتھا ان کا کتا ہے اور کچھ کہیں گے : وہ پانچ ہیں (اور) چھٹا ان کا کتا ہے (یہ سب) بغیر دیکھے اندازے ہیں اور کچھ کہیں گے: وہ سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا ہے ۔ تم فرماؤ! میرا رب ان کی تعداد خوب جانتا ہے۔ انہیں بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں ۔ تو ان کے بارے میں بحث نہ کرو مگر اتنی ہی جتنی ظاہر ہوچکی ہے اور ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے کچھ نہ پوچھو۔
23
ترجمہ: اور ہر گز کسی چیز کے متعلق نہ کہنا کہ میں کل یہ کرنے والاہوں ۔
24
ترجمہ: مگر یہ کہ اللہ چاہے اور جب تم بھول جاؤ تو اپنے رب کو یاد کرلواور یوں کہو کہ قریب ہے کہ میرا رب مجھے اس واقعے سے زیادہ قریب ہدایت کا کوئی راستہ دکھائے۔
25
ترجمہ: اور وہ اپنے غار میں تین سو سال ٹھہرے اورنو سال زیادہ۔
26
ترجمہ: تم فرماؤ: اللہ خوب جانتا ہے وہ جتنا ٹھہرے۔ آسمانوں اور زمین کے سب غیب اسی کے لیے ہیں ، وہ کتنا دیکھنے والا اور سننے والا ہے۔ ان کیلئے اس کے سوا کوئی مددگار نہیں اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔
27
ترجمہ: اور اپنے رب کی کتاب سے اس وحی کی تلاوت کرو جو آپ کی طرف بھیجی گئی ہے ۔اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور تم ہرگز اس کے سوا کوئی پناہ نہ پاؤ گے۔
28
ترجمہ: اور اپنی جان کو ان لوگوں کے ساتھ مانوس رکھ جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں اور تیری آنکھیں دنیوی زندگی کی زینت چاہتے ہوئے انہیں چھوڑ کر اوروں پر نہ پڑیں اور اس کی بات نہ مان جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا۔
29
ترجمہ: اورتم فرما دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے بیشک ہم نے ظالموں کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی اور اگروہ پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد اس پانی سے پوری کی جائے گی جو پگھلائے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو اُن کے منہ کوبھون دے گا۔ کیا ہی برا پینا اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
30
ترجمہ: بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے ہم ان کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھے عمل کرنے والے ہوں ۔
31
ترجمہ: ان کے لیے ہمیشگی کے باغات ہیں ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، انہیں ان باغوں میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ سبز رنگ کے باریک اور موٹے ریشم کے کپڑے پہنیں گے وہاں تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔ یہ کیا ہی اچھا ثواب ہے اور جنت کی کیا ہی اچھی آرام کی جگہ ہے۔
32
ترجمہ: اور ان کے سامنے دو آدمیوں کا حال بیان کروکہ ان میں سے ایک آدمی کیلئے ہم نے انگوروں کے دو باغ بنائے اور ان دونوں باغوں کو کھجوروں سے ڈھانپ دیا اور ان کے درمیان میں کھیتی بھی بنادی۔
33
ترجمہ: دونوں باغوں نے اپنے اپنے پھل دیدئیے اور اس میں کچھ کمی نہ کی اور دونوں کے بیچ میں ہم نے ایک نہر جاری کردی۔
34
ترجمہ: اور اس آدمی کے پاس پھل تھے تو اس نے اپنے ساتھی سے کہا اور وہ اس سے فخروغرور کی باتیں کرتا رہتا تھا۔ (اس سے کہا)میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور افراد کے اعتبار سے زیادہ طاقتور ہوں ۔
35
ترجمہ: اوروہ اپنے باغ میں گیا حالانکہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا ، کہنے لگا: میں گمان نہیں کرتا کہ یہ (باغ) کبھی فنا ہوگا۔
36
ترجمہ: اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو میں ضرور اس باغ سے بہتر پلٹنے کی جگہ پالو ں گا۔
37
ترجمہ: اس کے ساتھی نے اس کی فخروغرور کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا: کیا تو اس کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بنایا پھر نطفہ سے پھر تجھے بالکل صحیح مرد بنادیا۔
38
ترجمہ: لیکن ( میں تو یہی کہتا ہوں کہ) وہ اللہ ہی میرا رب ہے او ر میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں کرتا ۔
39
ترجمہ: اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں گیا تو کہتا: (یہ سب وہ ہے) جو اللہ نے چاہا، ساری قوت اللہ کی مدد سے ہی ہے۔ اگر تو مجھے اپنے مقابلے میں مال اور اولاد میں کم دیکھ رہا ہے۔
40
ترجمہ: تو قریب ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرمادے اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں گرادے تو وہ چٹیل میدان ہوکر رہ جائے۔
41
ترجمہ: یا اس باغ کا پانی زمین میں دھنس جائے پھر تو اسے ہرگز تلاش نہ کرسکے ۔
42
ترجمہ: اور اس کے پھل گھیر لیے گئے تو وہ ان اخراجات پر اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا جو اس باغ میں خرچ کئے تھے اور وہ باغ اپنی چھتوں کے بل اوندھے منہ گرا ہواتھااوروہ مالک کہہ رہا ہے، اے کاش!میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا۔
43
ترجمہ: اور اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی جو اللہ کے سامنے اس کی مدد کرتی اور نہ ہی وہ خود بدلہ لینے کے قابل تھا۔
44
ترجمہ: یہاں پتہ چلتا ہے کہ تمام اختیار سچے اللہ کا ہے، وہ سب سے بہتر ثواب دینے والا اور سب سے اچھا انجام عطا فرمانے والا ہے۔
45
ترجمہ: اور ان کے سامنے بیان کرو کہ دنیا کی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے ایک پانی ہو جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہوکر نکلا پھروہ سوکھی گھاس بن گیا جسے ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
46
ترجمہ: مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی رونق ہیں اور باقی رہنے والی اچھی باتیں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے زیادہ بہتر اور امید کے اعتبار سے زیادہ اچھی ہیں ۔
47
ترجمہ: اور یاد کرو جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھو گے (جس پر پہاڑ وغیرہ کچھ بھی نہ ہوگا)اور ہم لوگوں کواٹھائیں گے تو ان میں سے کسی کو نہ چھوڑیں گے۔
48
ترجمہ: اور سب تمہارے رب کی بارگاہ میں صفیں باندھے پیش کئے جائیں گے ، بیشک تم ہمارے پاس ویسے ہی آئے جیسے ہم نے تمہیں پہلی بارپیدا کیا تھا ،بلکہ تمہارا گمان تھا کہ ہم ہر گز تمہارے لیے کوئی وعدے کا وقت نہ رکھیں گے۔
49
ترجمہ: اور نامہ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس میں جو( لکھا ہوا) ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے: ہائے ہماری خرابی! اس نامہ اعمال کو کیا ہے کہ اس نے ہر چھوٹے اور بڑے گناہ کو گھیرا ہوا ہے اور لوگ اپنے تمام اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔
50
ترجمہ: اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا: آدم کو سجدہ کروتو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے ، وہ جنوں میں سے تھا تو وہ اپنے رب کے حکم سے نکل گیا تو (اے لوگو!) کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ، ظالموں کیلئے کیا ہی برا بدلہ ہے۔
51
ترجمہ: نہ میں نے انہیں آسمانوں اور زمین کو بناتے وقت حاضر رکھاتھااور نہ خود ان کے بناتے وقت اور نہ میں گمراہ کرنے والوں کو مددگار بنانے والا ہوں ۔
52
ترجمہ: اور یاد کرو جس دن اللہ فرمائے گا :میرے ان شریکوں کو پکارو جنہیں تم (میرا شریک) گمان کرتےتھے تو وہ انہیں پکاریں گے تو وہ شریک انہیں جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہلاکت کا میدان بنا دیں گے۔
53
ترجمہ: اور مجرم دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے پھرنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے۔
54
ترجمہ: اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال طرح طرح سے بیان فرمائی اور انسان ہرچیز سے بڑھ کر جھگڑا لو ہے۔
55
ترجمہ: اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو انہیں ایمان لانے اور اپنے رب سے مغفرت مانگنے سے کس چیز نے روکا سوائے اس کے کہ ان پر بھی پہلے لوگوں کا طریقہ آجائے یا ان پر بہت سی قسموں کا عذاب آجائے۔
56
ترجمہ: اور ہم رسولوں کوخوشخبری دینے والے اور ڈر کی خبریں سنانے والے بنا کر ہی بھیجتے ہیں اور کافر باطل باتوں کے ذریعے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے حق بات کومٹادیں اور انہوں نے میری نشانیوں کو اور جس سے انہیں ڈرایا جاتا تھا اسے مذاق بنالیا۔
57
ترجمہ: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جائے تو وہ ان سے منہ پھیرلے اور ان اعمال کو بھول جائے جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں ۔ بیشک ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردئیے ہیں تاکہ قرآن کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ رکھ دئیے ہیں اور اگر تم انہیں ہدایت کی طرف بلاؤ تو جب بھی ہرگز کبھی ہدایت نہ پائیں گے۔
58
ترجمہ: اور تمہارا رب بڑا بخشنے والا،رحمت وا لا ہے۔ اگر وہ لوگوں کو ان کے اعمال کی بنا پر پکڑ لیتا تو جلد ان پر عذاب بھیج دیتا بلکہ ان کے لیے ایک وعدے کا وقت ہے جس کے سامنے کوئی پناہ نہ پائیں گے۔
59
ترجمہ: اور یہ بستیاں ہم نے تباہ کردیں جب انہوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کی بربادی کیلئے ایک وعدہ کررکھا تھا۔
60
ترجمہ: اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے خادم سے فرمایا: میں مسلسل سفر میں رہوں گا جب تک دوسمندروں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں یا مدتوں چلتا رہوں گا۔
61
ترجمہ: پھر جب وہ دونوں دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پہنچے تواپنی مچھلی بھول گئے اور اس مچھلی نے سمندر میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنالیا۔
62
ترجمہ: پھر جب وہ وہاں سے گزر گئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے فرمایا: ہمارا صبح کا کھانا لاؤ بیشک ہمیں اپنے اس سفر سے بڑی مشقت کا سامنا ہواہے۔
63
ترجمہ: خادم نے عرض کی: سنئے ! جب ہم نے اس چٹان کے پاس (آرام کیلئے) ٹھکانہ بنایا تھا تو بیشک میں مچھلی (کے متعلق بتانا) بھول گیا تھا اور مجھے شیطان ہی نے اس کا ذکر کرنا بھلادیا اور (ہوا یہ ہے کہ) مچھلی نے سمندر میں اپنا راستہ بڑا عجیب بنایا۔
64
ترجمہ: موسیٰ نے فرمایا: یہی تو ہم چاہتے تھے پھر وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے واپس لوٹ گئے۔
65
ترجمہ: تو انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایاجسے ہم نے اپنے پاس سے خاص رحمت دی تھی اور اسے اپنا علم لدنی عطا فرمایا۔
66
ترجمہ: اس سے موسیٰ نے کہا: کیااس شرط پر میں تمہارے ساتھ رہوں کہ تم مجھے وہ درست بات سکھادو جو تمہیں سکھائی گئی ہے۔
67
ترجمہ: جواب دیا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔
68
ترجمہ: اور آپ اس بات پر کس طرح صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں ۔
69
ترجمہ: موسیٰ نے کہا :اگراللہ چاہے گاتو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والاپاؤ گے اور میں آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کروں گا۔
70
ترجمہ: کہا ،تو اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو مجھ سے کسی شے کے بارے میں سوال نہ کرنا جب تک میں خودآپ کے سامنے اس کا ذکر نہ کردوں ۔
71
ترجمہ: پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تواس نے کشتی کو چیر ڈالا۔ موسیٰ نے کہا: کیا تم نے اسے اس لیے چیردیا تاکہ کشتی والوں کو غرق کردو، بیشک یہ تم نے بہت برا کام کیا۔
72
ترجمہ: کہا: کیا میں نہ کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔
73
ترجمہ: موسیٰ نے کہا: میری بھول پر میرا مواخذہ نہ کرواور مجھے میرے کام کی طرف سے مشکل میں نہ ڈالو۔
74
ترجمہ: پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب انہیں ایک لڑکا ملا تو اس نے اسے قتل کردیا۔ موسیٰ نے کہا: کیا تم نے کسی جان کے بدلے کے بغیر ایک پاکیزہ جان کوقتل کردیا۔ بیشک تم نے بہت ناپسندیدہ کام کیا ہے۔
75
ترجمہ: کہا: میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہرسکیں گے۔
76
ترجمہ: موسیٰ نے کہا: اگر اس مرتبہ کے بعد میں آپ سے کسی شے کے بارے میں سوال کروں تو پھر مجھے ساتھی نہ رکھنا، بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہوچکاہے۔
77
ترجمہ: پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک بستی والوں کے پاس آئے تواس بستی کے باشندوں سے کھانا مانگا، انہوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا پھر دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار پا ئی جو گرنا ہی چاہتی تھی تو اس نے اسے سیدھا کردیا، موسیٰ نے کہا: اگر تم چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری لے لیتے۔
78
ترجمہ: کہا: یہ میری اور آپ کی جدائی کا وقت ہے۔ اب میں آپ کو ان باتوں کا اصل مطلب بتاؤں گا جن پر آپ صبر نہ کرسکے۔
79
ترجمہ: وہ جو کشتی تھی تووہ کچھ مسکین لوگوں کی تھی جو دریا میں کام کرتے تھے تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہرصحیح سلامت کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔
80
ترجمہ: اور وہ جو لڑکا تھا تواس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ لڑکاانہیں بھی سرکشی اور کفر میں ڈال دے گا۔
81
ترجمہ: تو ہم نے چاہا کہ اُن کا رب اُنہیں پاکیزگی میں پہلے سے بہتر اور حسنِ سلوک اوررحمت و شفقت میں زیادہ مہربان عطا کردے۔
82
ترجمہ: اور بہرحال دیوار (کا جہاں تک تعلق ہے) تو وہ شہرکے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس دیوارکے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں (یہ سب ) آپ کے رب کی رحمت سے ہے اور یہ سب کچھ میں نے اپنے حکم سے نہیں کیا ۔ یہ ان باتوں کا اصل مطلب ہے جس پر آپ صبر نہ کرسکے۔
83
ترجمہ: اور آپ سے ذوالقرنین کے متعلق سوال کرتے ہیں ۔ تم فرماؤ: میں عنقریب تمہارے سامنے اس کا ذکر پڑھ کر سناتا ہوں ۔
84
ترجمہ: بیشک ہم نے اسے زمین میں اقتدار دیا اور اسے ہر چیز کا ایک سامان عطا فرمایا۔
85
ترجمہ: تو وہ ایک راستے کے پیچھے چلا ۔
86
ترجمہ: یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچا تواسے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا ہوا پایا اور اس چشمے کے پاس ہی ایک قوم کو پایا توہم نے فرمایا: اے ذوالقرنین! یا تو تُو انہیں سزا دے یا ان کے بارے میں بھلائی اختیار کرو۔
87
ترجمہ: کہا : بہرحال جس نے ظلم کیا تو عنقریب ہم اسے سزا دیں گے پھروہ اپنے رب کی طرف لوٹایاجائے گا تو وہ اسے بہت برا عذاب دے گا۔
88
ترجمہ: اور بہر حال جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا تو اس کا بدلہ بھلائی ہے اور عنقریب ہم اس کو آسان کام کہیں گے۔
89
ترجمہ: پھر وہ ایک راستے کے پیچھے چلا۔
90
ترجمہ: یہاں تک کہ جب سورج طلوع ہونے کی جگہ پہنچا تو اسے ایک ایسی قوم پرطلوع ہوتا ہوا پایا جن کے لیے ہم نے سورج سے کوئی آڑ نہیں رکھی تھی۔
91
ترجمہ: بات اسی طرح ہے اور جو کچھ اس کے پاس تھا سب کو ہمارا علم محیط ہے۔
92
ترجمہ: پھر وہ ایک اور راستے کے پیچھے چلا ۔
93
ترجمہ: یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو اس نے ان پہاڑوں کے آگے ایک ایسی قوم کو پایا جو کوئی بات سمجھتے معلوم نہ ہوتے تھے۔
94
ترجمہ: انہوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بیشک یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد مچانے والے لوگ ہیں تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ مال مقرر کردیں اس بات پر کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنادیں ۔
95
ترجمہ: ذوالقرنین نے کہا: جس چیزپر مجھے میرے رب نے قابو دیا ہے وہ بہتر ہے توتم میری مدد قوت کے ساتھ کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط رکاوٹ بنادوں گا۔
96
ترجمہ: میرے پاس لوہے کے ٹکڑے لاؤ یہاں تک کہ جب وہ دیوار دونوں پہاڑوں کے کناروں کے درمیان برابر کردی تو ذوالقرنین نے کہا: آگ دھنکاؤ۔ یہاں تک کہ جب اُس لوہے کو آگ کردیا توکہا : مجھے دو تا کہ میں اس گرم لوہے پر پگھلایا ہوا تانبہ اُنڈیل دوں ۔
97
ترجمہ: تو یاجوج و ماجوج اس پر نہ چڑھ سکے اور نہ اس میں سوراخ کرسکے۔
98
ترجمہ: ذوالقرنین نے کہا: یہ میرے رب کی رحمت ہے پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تواسے پاش پاش کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔
99
ترجمہ: اور اس دن ہم انہیں چھوڑ دیں گے کہ ان کا ایک گروہ دوسرے پر سیلاب کی طرح آئے گا اور صُور میں پھونک ماری جائے گی تو ہم سب کو جمع کر لائیں گے۔
100
ترجمہ: اور ہم اس دن جہنم کافروں کے سامنے لائیں گے۔
101
ترجمہ: وہ جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور حق بات سن نہ سکتے تھے ۔
102
ترجمہ: تو کیا کافر یہ سمجھتے ہیں کہ میرے بندوں کو میرے سوا حمایتی بنالیں گے بیشک ہم نے کافروں کی مہمانی کیلئے جہنم تیار کر رکھی ہے۔
103
ترجمہ: تم فرماؤ: کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے زیادہ ناقص عمل والے کون ہیں ؟
104
ترجمہ: وہ لوگ جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی حالانکہ وہ یہ گمان کررہے ہیں کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں ۔
105
ترجمہ: یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا تو ان کے سب اعمال برباد ہوگئے پس ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔
106
ترجمہ: یہ ان کا بدلہ ہے جہنم ،کیونکہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کو ہنسی مذاق بنالیا۔
107
ترجمہ: بیشک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے ان کی مہمانی کیلئے فردوس کے باغات ہیں ۔
108
ترجمہ: وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، ان سے کوئی دوسری جگہ بدلنا نہ چاہیں گے۔
109
ترجمہ: تم فرمادو: اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی ہو جاتا تو ضرور سمندر ختم ہوجاتااور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوتیں، اگرچہ ہم اس کی مدد کیلئے اُسی سمندر جیسا اور لے آتے ۔
110
ترجمہ: تم فرماؤ: میں ( ظاہراً) تمہاری طرح ایک بشر ہوں مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہےتو جو اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے ۔

Surah kahf PDF

Surah Kahf First 10 Verses

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاﭧ(1)
قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًا(2)
مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًا(3)
وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا(4)
مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآىٕهِمْؕ-كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُ جُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْؕ-اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا(5)
فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا(6)
اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا(7)
وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاﭤ(8)
اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْـكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا(9)
اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْـكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا(10)

Surah Kahf Last 10 Ayat

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا(101)
اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَؕ-اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا(102)
قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاﭤ(103)
اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا(104)
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآىٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا(105)
ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا(106)
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا(107)
خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا(108)
قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا(109)
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا(110)

Surah Kahf Audio

Surah Kahf On Friday

Surah Kahf holds immense significance for Muslims to recite on Fridays. It is narrated in a hadith that whoever recites Surah Kahf on Fridays will have their week illuminated with divine blessings and protection until the next Friday. This special emphasis on reciting Surah Kahf on Fridays serves as a reminder of the importance of seeking knowledge, strengthening one’s faith, and adhering to the teachings of the Surah.

Surah Kahf contains timeless stories that carry profound lessons and guidance for believers. It highlights the themes of faith, patience, righteousness, and the transient nature of worldly possessions. By reciting this Surah on Fridays, Muslims can reflect on these stories and extract wisdom from them, applying the lessons in their lives.

Reciting Surah Kahf on Fridays is a means to seek blessings and protection and a way to deepen one’s understanding of the Quran and draw closer to Allah. It provides an opportunity for self-reflection, spiritual growth, and renewal of faith. Additionally, it serves as a reminder to prioritize the remembrance of Allah, seek His guidance, and strengthen one’s relationship with Him.

Furthermore, reciting Surah Kahf on Fridays is also encouraged to protect from the trials and tribulations of the Dajjal (the false messiah) who will emerge in the future. The Surah is believed to provide spiritual safeguarding and divine support against his influence.

Unlocking Spiritual Treasures: 9 Benefits of Reading Surah Kahf

Surah Kahf Ki Fazilat


ایمانی قوت کے لئے ۔ سورۃ کہف کا جمعہ کے دن پڑھنا زمین سے آسمان تک نور پیدا کرتا ہے
 اور آٹھ دن تک وہ نور برقرار برابر قائم رہتا ہے ۔ پھر اس کے پڑھنے والے کے لیے سارا نور قبر میں دیا جاتا ہے اور قبر کے بعد قیامت کے دن میدان حشر میں دیا جائے گا اور اس صورت کا روزانہ تلاوت کرنا ایمان کو قوت دیتا ہے اور نور ایمانی میں ترقی دیتا ہے ۔وقت مقرر پر جاگ اٹھنا ۔

اگر کسی شخص کو رات کے وقت جاگنا منظور ہو یعنی جاگنے کی حاجت ہو اور کوئی جگانے والا نہ ہو اور نہ ہی خود کی آنکھ کھلتی ہو یعنی خود بھی اٹھنے کی امید نہ رکھتا ہو ۔ تو وہ شخص عشاء کی نماز کے بعد سورۃ کہف پڑھ کر سو جائے جس وقت اٹھنے کا ارادہ کرے گا انشاء اللہ تعالی اسی وقت اس کی آنکھ کھل جائے گی یہ دیکھو میرے بھائیو کیسا بہترین الارم ہے ۔ یہ دنیا کے الارموں سے آنکھ کھلے یا نہ کھلے لیکن اس سے ضرور کھل جائے گی ۔ یہ رات کے وقت جاگنے کے لیے بہت بہترین عمل ہے

Read Surah Mulk

قرض سے نجات کے لئے ۔ جو شخص قرض میں گرفتار ہو اور قرض اتارنا مشکل ہو نہیں دیا جا رہا ہوں بہت پریشان ہے قرض کے معاملے کو لے کر تو جمعہ کی نماز کے بعد سورۃ کہف کو سات مرتبہ پڑھے اور اللہ تعالی سے پوری توجہ کے ساتھ پوری یکسوئی کے ساتھ دعا مانگا کرے انشاء اللہ تعالی بہت جلد قرضہ اتر جائے گا اللہ رب العزت خود ایسا سبب بنا دیں گے کہ اس قرضے کو اتارنے میں آپ کو بہت آسانی ہوگی بہت جلد ہی آپ اس قرضے سے فارغ ہو جائیں گے ۔

اور یہ سورت کھف دنیا کے اور بھی بہت سے فتنوں سے بچائے گی ۔ سورۃ کہف کے پڑھنے والے کے لئے قیامت کے دن نور ہوگا ۔ جو شخص اس کی تلاوت کرتا ہے قیامت کے دن یہ صورت اس کے لئے نور ہوگی ۔ اور یہ دجال کے مکر و فریب سے آپ کی حفاظت کرے گی یعنی کہ دجال کے فتنے سے آپ کو بچائے گی ۔

اور اللہ ہماری حفاظت فرمائے دجال کے فتنے بہت برے فتنے ہیں ۔ حالانکہ اس کے ماتھے پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ کافر ہے لیکن انسان وہاں ایمان والا ہی بچ سکے گا تو جو شخص سورۃ کہف کی تلاوت کرتا رہا ہو گا یہ دجال کے مکر و فریب اور دجال کے فتنے سے حفاظت کرے گی۔اور سورۃ کہف کی آخری اور پہلی دس آیتیں پڑھنے سےوہ شخص ہر قسم کی بلا اور ہر قسم کی مصیبت سے محفوظ رہے گا اللہ کی مدد سے ان شاء اللہ ۔

Follow Us On Intsgram

Thanks For Reading Surah Kahf With Urdu Translation – Surah al Kahf Pdf.

Read Also:

Greetings! My name is Ahsan Amin, I am a passionate web developer and blogger with years of experience. I always provide my visitors or clients with the best of me.

6 thoughts on “Surah Kahf With Urdu Translation – Surah al Kahf Pdf”

  1. Oh my goodness! Awesome article dude! Thank you so much, However I am encountering troubles with your RSS.
    I don’t understand why I can’t subscribe to it. Is there
    anybody having similar RSS problems? Anyone who knows the solution can you kindly respond?
    Thanks!!

    Reply
  2. That is really fascinating, You are an excessively professional blogger.
    I’ve joined your feed and look forward to in the hunt for
    more of your fantastic post. Additionally, I’ve shared your web site in my social
    networks

    Reply

Leave a Comment

Discover more from Islamic Quotes Library

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading